جنگل کا قانون

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لا قانونیت، بے قاعدگی کا عمل، وحشیانہ عمل دخل، بے تکے طور طریقے۔ "اب نہ ظالم کوئی نہ مظلوم ہے، ہر طرف آج جنگل کا قانون ہے اور جنگل میں جو بھی ہے معصوم ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، سنگ آفتاب، ١٥٤ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'جنگل' کے بعد اردو حرف اضافت 'کا' لگا کر عربی اسم 'قانون' لگانے سے مرکب اضافی جنگل کا قانون بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ملتا ہے۔ ١٩٧٥ء میں "سنگ آفتاب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لا قانونیت، بے قاعدگی کا عمل، وحشیانہ عمل دخل، بے تکے طور طریقے۔ "اب نہ ظالم کوئی نہ مظلوم ہے، ہر طرف آج جنگل کا قانون ہے اور جنگل میں جو بھی ہے معصوم ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، سنگ آفتاب، ١٥٤ )

جنس: مذکر